ماہواری کم آنے کی وجہ، پرہیز، علاج اور مفید غذا

خواتین میں ماہواری کم آنے کی وجوہات، پرہیز، علاج اور مکمل رہنمائی

تعارف

ماہواری کم آنا خواتین میں پایا جانے والا ایک عام مگر اہم مسئلہ ہے۔ ماہواری کم آنا اکثر جسمانی کمزوری، ہارمونل خرابی یا ذہنی دباؤ کی وجہ سے ہوتا ہے۔ یہ مسئلہ وقتی بھی ہو سکتا ہے اور مستقل بھی۔ بعض خواتین میں ماہواری کے دن کم ہو جاتے ہیں جبکہ بعض میں خون کی مقدار کم ہو جاتی ہے۔ اس مضمون میں ماہواری کم آنے کی بنیادی وجوہات، احتیاطی تدابیر، مؤثر علاج اور مفید غذا پر تفصیل سے روشنی ڈالی جائے گی۔ یہ معلومات ہر عمر کی خواتین کے لیے فائدہ مند ہیں۔

احتباسِ طمث کی اہم وجوہات

ماہواری کے بند ہونے کی کئی وجوہات ہو سکتی ہیں، جن میں جسمانی، ہارمونی اور طرزِ زندگی سے متعلق عوامل شامل ہیں:

  • ہارمونز کا عدم توازن
    پولی سسٹک اووری سنڈروم (PCOS)، تھائیرائیڈ کی خرابی اور ہائپرپرولیکٹینیمیا جیسے مسائل ہارمونز کو متاثر کرتے ہیں۔

  • جسمانی ساخت میں شدید تبدیلی
    حد سے زیادہ دبلا پن یا موٹاپا بھی ماہواری کے نظام کو متاثر کر سکتا ہے۔

  • بعض دائمی بیماریاں اور ادویات
    ذیابیطس، دل کے امراض، رحم کی بیماریاں، اینٹی ڈپریسنٹس یا کیموتھراپی جیسی ادویات۔

  • سخت جسمانی مشقت
    ایتھلیٹس یا حد سے زیادہ ورزش کرنے والی خواتین میں بھی یہ مسئلہ دیکھا جاتا ہے۔

  • مانع حمل ادویات
    بعض گولیاں یا انجیکشنز ماہواری کو عارضی یا مستقل طور پر روک سکتے ہیں۔

  • سرد مزاج عوامل
    ایام کے دوران ٹھنڈا پانی پینا، ٹھنڈے ماحول میں رہنا یا جسمانی کمزوری۔

احتباسِ طمث کی علامات اور پیچیدگیاں

جب ماہواری بند ہو جائے تو اس کے اثرات پورے جسم پر ظاہر ہونے لگتے ہیں:

یہ تمام علامات اس بات کی نشاندہی کرتی ہیں کہ جسم میں بلغم اور رطوبات کی زیادتی ہو چکی ہے، اور اسی کیفیت میں ماہواری کا نظام متاثر ہو جاتا ہے۔

ہارمونز میں عدم توازن

ہارمونز خواتین کے تولیدی نظام کو کنٹرول کرتے ہیں۔ ایسٹروجن اور پروجیسٹرون کی کمی ماہواری کم آنے کا سبب بنتی ہے۔

  • ہارمونز کا بگڑ جانا
  • تھائیرائیڈ کے مسائل
  • بیضہ دانی کی کمزوری

ذہنی دباؤ اور نیند کی کمی

ذہنی تناؤ براہ راست ہارمونز پر اثر ڈالتا ہے۔ زیادہ سوچنا اور نیند پوری نہ ہونا ماہواری کو متاثر کرتا ہے۔

  • مستقل پریشانی
  • نیند کی کمی
  • جذباتی دباؤ

غذائی کمی اور غلط طرزِ زندگی

غذا اور طرزِ زندگی ماہواری کی صحت میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔ ناقص خوراک اس مسئلے کو بڑھا سکتی ہے۔

آئرن اور غذائی اجزاء کی کمی

آئرن کی کمی سے خون کم بنتا ہے جس سے ماہواری متاثر ہوتی ہے۔

  • آئرن کی کمی
  • فولاد اور وٹامن بی کی کمی
  • کمزور ہاضمہ

ضرورت سے زیادہ وزن یا کم وزن

جسمانی وزن کا عدم توازن ہارمونز کو متاثر کرتا ہے۔

  • زیادہ وزن
  • حد سے زیادہ کمزوری
  • غیر متوازن غذ

طبی علاج اور مشورہ

اگر مسئلہ برقرار رہے توطبیب سے رجوع ضروری ہے۔ اس کے علاوہ یہ کام لازمی کریں۔

ماہواری بہتر کرنے کے لیے مفید ڈائٹ پلان

صحیح غذا ماہواری کو بہتر بنانے میں مدد دیتی ہے۔ روزمرہ خوراک میں توازن ضروری ہے۔

مفید غذائیں اور گرم مزاج خوراک

مریضہ کو معتدل اور نسبتاً گرم تاثیر والی غذائیں دی جائیں:

  • اجوائن دیسی، تیز پات اور انجیر کا قہوہ

  • دیسی انڈے، نیم پکے انڈے، انڈے والا توس

  • بکرے کا گوشت، دیسی مرغ، کلیجی

  • لہسن کا سالن، لہسن کی یخنی

  • ساگ، میتھی، باتھو، پالک، کچنار

  • ٹماٹر، پودینہ، کریلا گوشت

  • زعفران، لونگ، دارچینی، جائفل

  • انگور، چوہارے، کشمش، منقہ، پستہ

  • احتباسِ طمث کا دیسی علاج

    نسخہ نمبر 1:

    چاروں چیزیں 50، 50 گرام لے کر آدھا کلو پانی میں پکائیں۔ جب پانی آدھا رہ جائے تو چھان کر سات دن میں تھوڑا تھوڑا پیئیں۔

    نسخہ نمبر 2: حبِ مفید النساء

    مرمکی، ہیرا ہینگ، ہیراکسیس اور زعفران ہم وزن لے کر سفوف بنا لیں اور نخودی گولیاں تیار کریں۔
    روزانہ تین گولیاں استعمال کریں۔
    یہ نسخہ رکے ہوئے ایام کو جاری کرنے، ہارمونز کے توازن اور وزن میں کمی کے لیے مفید ہے۔

    جڑی بوٹیوں سے علاج

    پیاز:
    پیاز کو پانی میں جوش دے کر پلانے سے ماہواری کھل کر آتی ہے۔

    بانسہ:
    بانسہ 10 گرام اور مغز بنولہ 10 گرام عرقِ سونف میں رگڑ کر پرانا گڑ شامل کریں۔ ایام سے تین دن پہلے استعمال شروع کریں۔

    سونف:
    سونف 10 گرام اور گڑ 10 گرام کو 250 ملی لیٹر پانی میں جوش دیں۔ آدھا رہ جائے تو چھان کر پلائیں اور گرم کپڑا اوڑھا دیں۔

پرہیز

  • فاسٹ فوڈ
  • ٹھنڈی اشیاء
  • کیفین کا زیادہ استعمال

اختتامیہ

ماہواری کم آنا ایک قابلِ توجہ مسئلہ ہے جسے نظرانداز نہیں کرنا چاہیے۔ بروقت تشخیص، مناسب غذا اور صحت مند طرزِ زندگی سے اس مسئلے پر قابو پایا جا سکتا ہے۔ اگر گھریلو تدابیر سے فائدہ نہ ہو تو ماہر ڈاکٹر سے مشورہ ضروری ہے۔ ماہواری کم آنا خواتین کی مجموعی صحت سے جڑا ہوا مسئلہ ہے، اس لیے اپنی صحت کا خاص خیال رکھیں۔

Scroll to Top