گوند کتیرا کے فوائد، استعمال اور طبی خصوصیات

گوند کتیرا کے فوائد، استعمال اور طبی خصوصیات

گوند کتیرا ایک قدیم اور مجرب قدرتی دوا ہے جو صدیوں سے طب یونانی میں استعمال ہوتی آ رہی ہے۔ یہ ایک خاردار درخت “قتاد” سے حاصل ہونے والا گوند ہے جو اپنی ٹھنڈک، تغذیے اور سوزش کو ختم کرنے کی خصوصیات کی وجہ سے بہت مشہور ہے۔ پاکستان، ہندوستان اور مشرق وسطیٰ میں یہ گھریلو نسخوں اور طبی مرکبات میں برابر استعمال ہوتا ہے۔ اس آرٹیکل میں ہم گوند کتیرا کی ماہیت، مزاج، فوائد، بیرونی و اندرونی استعمال، کیمیائی تجزیہ، مشہور نسخے اور احتیاطی تدابیر سب کچھ تفصیل سے بیان کریں گے۔


گوند کتیرا کیا ہے؟ – تعارف اور دیگر نام

گوند کتیرا کو مختلف زبانوں میں مختلف ناموں سے جانا جاتا ہے۔ اس کا علمی نام Astragalus gummifer ہے اور انگریزی میں اسے Tragacanth Gum کہتے ہیں۔ یہ پھلیاں (Leguminosae) خاندان کے ایک خاردار درخت سے حاصل ہوتا ہے جسے عربی میں “قتاد” کہا جاتا ہے۔

مختلف زبانوں میں نام

زبان نام
اردو گوند کتیرا، کتیرا
عربی صمغ القتاد
بنگالی کٹیلا
سندھی کتیلا
انگریزی Tragacanth Gum
ہندی کتیرا گوند
فارسی کتیرا

گوند کتیرا کی ماہیت اور پہچان

گوند کتیرا ایک خاردار درخت قتاد کی چھال سے خود بخود نکلنے والا گوند ہے۔ اس درخت کے کانٹے بہت زیادہ اور تیز ہوتے ہیں جو اسے ممتاز بناتے ہیں۔

گوند کتیرا کی اہم شناختی خصوصیات:

  • رنگ زردی مائل سفید ہوتا ہے
  • ذائقہ بالکل پھیکا ہوتا ہے
  • پانی میں حل نہیں ہوتا بلکہ پھول جاتا ہے
  • ٹنکچر آیوڈین لگانے سے رنگ اودا یا نیلا ہو جاتا ہے
  • صمغ عربی (گوند ببول) سے مختلف ہے کیونکہ صمغ عربی پانی میں مکمل حل ہو جاتا ہے
  • چھونے میں نرم اور لچکدار ہوتا ہے
  • خشک حالت میں سفید یا ہلکے زرد رنگ کی پتلی پرتوں کی شکل میں ملتا ہے

گوند کتیرا کا مزاج اور افعال – طب یونانی کی روشنی میں

طب یونانی میں ہر دوا کا ایک خاص مزاج ہوتا ہے۔ مزاج سے مراد دوا کی گرمی، سردی، تری اور خشکی کی صفات ہیں۔

مزاج

گوند کتیرا گرمی اور سردی کے لحاظ سے معتدل ہے۔ تری میں یہ درجہ اول میں شامل ہے۔ یعنی یہ نہ زیادہ گرم ہے اور نہ زیادہ سرد بلکہ توازن میں ہے، لیکن اس میں تری کی صفت پہلے درجے میں موجود ہے۔

طبی افعال (Pharmacological Actions)

گوند کتیرا کے طبی افعال درج ذیل ہیں:

طبی اصطلاح مطلب
مغری لعاب دار، چکنائی دینے والا
ملین آنتوں کو نرم کرنے والا
مسکن سوزش سوزش کو ختم کرنے والا
مسکن حرارت جسمانی گرمی کو کم کرنے والا
حابس الدم خون بہنا روکنے والا
ملین صدر سینے کو نرم کرنے والا
مسمن بدن جسم کو فربہ کرنے والا

گوند کتیرا کا کیمیائی تجزیہ

جدید سائنس نے گوند کتیرا کے کیمیائی اجزاء کا تجزیہ کیا ہے جو اس کی طبی افادیت کو ثابت کرتا ہے۔

اہم کیمیائی اجزاء

کیمیائی جزو مقدار (تقریباً) فائدہ
Tragacanthin 30-40% پانی میں حل ہونے والا حصہ
Bassorin 60-70% پانی میں پھولنے والا حصہ
نشاستہ (Starch) قلیل مقدار توانائی
پروٹین 2-3% جسم کی تعمیر
رطوبت (Moisture) 10-15% قدرتی نمی
معدنی نمکیات (Ash) 2-4% فاسفورس، کیلشیم
ریشہ (Fiber) زیادہ مقدار نظام ہاضمہ
کاربوہائیڈریٹس 60-70% توانائی کا ذریعہ

کیمیائی خصوصیات کی تفصیل

Bassorin گوند کتیرا کا سب سے اہم جزو ہے۔ یہ پانی میں حل نہیں ہوتا بلکہ پانی جذب کر کے جیل کی شکل اختیار کرتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ کتیرا بھگونے کے بعد پھول جاتا ہے۔

Tragacanthin پانی میں مکمل حل ہو جاتا ہے اور لعاب دار محلول بناتا ہے۔ یہ جزو آنتوں اور معدے کی دیواروں پر حفاظتی تہہ بناتا ہے۔

ریشہ (Fiber) کی موجودگی گوند کتیرا کو قبض کشا اور نظام ہاضمہ کو درست کرنے والا بناتی ہے۔


گوند کتیرا کے بیرونی استعمال

گوند کتیرا کو بیرونی طور پر جلد اور آنکھوں کے علاج میں استعمال کیا جاتا ہے۔

جلد کے لیے فوائد

گوند کتیرا جلد کو نرم، ملائم اور تروتازہ رکھنے کے لیے بہترین قدرتی جزو ہے۔ یہ جلد کی خشکی اور کھردرا پن دور کرتا ہے۔ مناسب ادویہ کے ساتھ ملا کر اسے لیپ (طلاء) کی شکل میں جلد پر لگایا جاتا ہے۔

جلد پر استعمال کا طریقہ:

  1. گوند کتیرا کو پانی میں بھگو کر جیل بنا لیں
  2. اس میں گلاب کا عرق یا بادام کا تیل ملائیں
  3. رات کو سونے سے پہلے چہرے اور ہاتھوں پر لگائیں
  4. صبح پانی سے دھو لیں
  5. کچھ ہفتوں تک مسلسل استعمال سے جلد نرم ہو جاتی ہے

ہونٹوں کی تڑکن (شقاق لب) میں استعمال

سردیوں میں ہونٹوں کا پھٹنا اور تڑکنا ایک عام مسئلہ ہے۔ گوند کتیرا کو پانی میں بھگو کر نرم کریں اور پھٹے ہونٹوں پر لگائیں۔ اس سے ہونٹوں کی خشکی اور تڑکن دور ہوتی ہے اور وہ نرم و ملائم ہو جاتے ہیں۔

آنکھوں کے امراض میں استعمال

آشوب چشم اور آنکھوں کے زخموں میں گوند کتیرا کو مناسب ادویہ کے ساتھ ملا کر سرمہ (شیاف) کی شکل میں آنکھوں میں لگایا جاتا ہے۔ اس کی مغری (لعاب دار) خصوصیت آنکھوں کو نمی دیتی ہے اور سوزش کم کرتی ہے۔


گوند کتیرا کے اندرونی استعمال اور فوائد

گوند کتیرا کے اندرونی استعمال انتہائی متنوع اور مؤثر ہیں۔ یہ جسم کے مختلف اعضاء کے امراض میں فائدہ مند ہے۔

جسمانی گرمی اور سوزش میں

جسم میں شدید گرمی اور اندرونی سوزش کے وقت گوند کتیرا بہترین دوا ثابت ہوتی ہے۔ اسے شربتوں میں ملا کر یا پانی میں بھگو کر پلایا جاتا ہے۔ یہ جسم کے درجہ حرارت کو کم کرتا ہے اور اندرونی سوزش کو ٹھنڈا کرتا ہے۔

استعمال کا طریقہ:

  • رات کو ایک گرام گوند کتیرا ایک گلاس پانی میں بھگو دیں
  • صبح اس میں تھوڑا گلاب کا عرق اور شکر ملائیں
  • خالی پیٹ پی لیں

پھیپھڑوں اور سینے کے امراض میں

گوند کتیرا سینے اور حلق کی خشونت (کھردرا پن)، گرم کھانسی، خون کی قے (نفث الدم)، پھیپھڑوں کے زخم اور آواز کی بندش (بحتہ الصوت) میں بہت مفید ہے۔

استعمال کا طریقہ:

  • گدھی یا بکری کے تازہ دودھ کے ساتھ گوند کتیرا دیں
  • یا مناسب ادویہ کے ساتھ شربت میں ملا کر چٹائیں
  • گولیوں میں شامل کر کے منہ میں رکھ کر چوسیں

آنتوں کے زخم اور پیاس میں

قروح آمعاء یعنی آنتوں کے زخموں میں گوند کتیرا بھگو کر کھانا بہت فائدہ مند ہے۔ یہ آنتوں کی دیوار پر حفاظتی تہہ بناتا ہے اور زخموں کو مندمل کرتا ہے۔ شدید پیاس، پیشاب کی نالی میں جلن اور مثانے کی سوزش (حرقت مثانہ) میں بھی یہ سکون دیتا ہے۔

جسم کو فربہ کرنے کا نسخہ

گوند کتیرا کا ایک مشہور نسخہ جسم کو طاقتور اور فربہ بنانے کے لیے استعمال ہوتا ہے:

اجزاء:

جزو مقدار
مغز بادام ہم وزن
نشاستہ ہم وزن
خالص شکر ہم وزن
گوند کتیرا ہم وزن

تیاری کا طریقہ:

  1. تمام اجزاء کو باریک پیس کر سفوف بنا لیں
  2. مقدار خوراک ایک سے تین گرام
  3. تازہ دودھ کے ساتھ استعمال کریں
  4. مسلسل استعمال سے جسم فربہ ہوتا ہے اور کمزوری دور ہوتی ہے

خون بند کرنے میں

گوند کتیرا حابس الدم ہے یعنی خون کو بند کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ جسم کے اندرونی اعضاء سے خون بہنے کی صورت میں یہ بہت کارآمد ہے۔ ناک سے خون، پھیپھڑوں سے خون اور آنتوں سے خون بہنے کی صورت میں اسے مناسب ادویہ کے ساتھ دیا جاتا ہے۔

مسہل ادویہ کی اصلاح

جب کوئی سخت مسہل دوا (جلاب آور) استعمال کی جائے تو اس کی گرمی اور تیزی کو کم کرنے کے لیے گوند کتیرا شامل کیا جاتا ہے۔ یہ مسہل دوا کے مضر اثرات کو کم کرتا ہے اور آنتوں کی حفاظت کرتا ہے۔

زہریلی ادویہ کے اثر کو زائل کرنا

گوند کتیرا بعض ادویہ کی سمیت (زہریلے اثر) کو زائل کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ یہ خصوصیت اسے طب یونانی میں ترکیبی نسخوں میں بہت اہم بناتی ہے۔


گوند کتیرا کے مشہور طبی نسخے اور مرکبات

طب یونانی میں گوند کتیرا کئی مشہور مرکبات میں شامل ہے۔

مشہور مرکبات

مرکب استعمال
لعوق سپستان کھانسی، سینے کی تکالیف
شربت اعجاز جسمانی کمزوری، خون کی کمی
سفوف گوند کتیرے والا جسم کو فربہ کرنے کے لیے

لعوق سپستان – تیاری اور استعمال

لعوق سپستان سینے اور گلے کی خشونت، گرم کھانسی اور پھیپھڑوں کی بیماریوں کے لیے ایک مشہور طبی نسخہ ہے۔ اس میں گوند کتیرا ایک اہم جزو ہے جو اس کی تاثیر کو بڑھاتا ہے۔

اجزاء:

  • سپستان (Cordia) – مناسب مقدار
  • گوند کتیرا – مناسب مقدار
  • ملٹھی – مناسب مقدار
  • انجیر – مناسب مقدار
  • شہد – مناسب مقدار

استعمال: صبح و شام ایک چمچ چاٹیں۔

شربت اعجاز

یہ شربت جسمانی کمزوری، سوزش اور اندرونی گرمی میں استعمال ہوتا ہے۔ گوند کتیرا اس میں ٹھنڈک اور تغذیے کے لیے شامل کیا جاتا ہے۔


گوند کتیرا کے نقصانات، مصلح اور بدل

مضر اثرات

گوند کتیرا زیادہ مقدار میں استعمال کیا جائے تو یہ سدہ (نالیوں میں رکاوٹ) پیدا کر سکتا ہے۔ جن لوگوں کا نظام ہاضمہ کمزور ہو یا نالیاں تنگ ہوں انہیں احتیاط کرنی چاہیے۔

مصلح (اصلاح کرنے والی دوا)

گوند کتیرا کے مضر اثرات کو دور کرنے کے لیے انیسوں (Aniseed) بہترین مصلح ہے۔ گوند کتیرا کے ساتھ تھوڑے انیسوں ملانے سے سدہ کا خطرہ کم ہو جاتا ہے۔

بدل (متبادل)

اگر گوند کتیرا دستیاب نہ ہو تو اس کا بہترین بدل گوند ببول (Acacia Gum / صمغ عربی) ہے۔ یہ بھی ملتی جلتی خصوصیات رکھتا ہے لیکن پانی میں حل ہو جاتا ہے۔

احتیاطی تدابیر

  • مقدار خوراک سے زیادہ ہرگز استعمال نہ کریں
  • حاملہ خواتین طبیب کے مشورے سے استعمال کریں
  • چھوٹے بچوں کو صرف ماہر طبیب کی ہدایت پر دیں
  • گردے یا پتے کے امراض میں احتیاط کریں

گوند کتیرا کی مقدار خوراک اور استعمال کے طریقے

مقدار خوراک

گوند کتیرا کی روزانہ تجویز کردہ مقدار ایک سے تین گرام ہے۔ یہ مقدار عمر، جسامت اور بیماری کی نوعیت کے مطابق کم یا زیادہ ہو سکتی ہے۔

عمر مقدار
بالغ افراد 1 سے 3 گرام
بچے (7-12 سال) 0.5 سے 1 گرام
بزرگ 1 سے 2 گرام

استعمال کے مختلف طریقے

1. بھگو کر کھانا (سب سے عام طریقہ):

  • رات کو ایک گلاس پانی میں ایک سے دو گرام کتیرا ڈالیں
  • صبح تک پھول جائے گا
  • شکر یا شہد ملا کر پی لیں

2. دودھ کے ساتھ:

  • گرم دودھ میں حل کر کے پی سکتے ہیں
  • بکری یا گدھی کا دودھ زیادہ مفید ہے

3. شربت میں ملا کر:

  • مختلف شربتوں میں ملا کر استعمال کریں

4. سفوف کی شکل میں:

  • دوسری ادویہ کے ساتھ ملا کر سفوف بنائیں

5. گولی کی شکل میں:

  • گولی بنا کر منہ میں رکھ کر آہستہ آہستہ چوسیں

گوند کتیرا کا موسمی استعمال

گوند کتیرا موسم گرما میں خاص طور پر مفید ہے کیونکہ یہ جسم کو ٹھنڈک دیتا ہے۔

گرمیوں میں استعمال

  • ٹھنڈے مشروبات میں: لیموں پانی یا سکنجبین میں ملائیں
  • فالودہ میں: گوند کتیرا فالودے کا ایک اہم جزو ہے
  • دودھ کے مشروب میں: ٹھنڈے دودھ میں ملا کر پینے سے گرمی سے بچاؤ

سردیوں میں استعمال

  • گرم دودھ میں ملا کر پینے سے سینے کی خشکی اور کھانسی میں آرام
  • جلد کی خشکی دور کرنے کے لیے بیرونی استعمال

اختتامیہ

گوند کتیرا قدرت کا ایک بے مثال عطیہ ہے جو صدیوں سے طب یونانی میں استعمال ہوتا آ رہا ہے۔ یہ جسمانی گرمی، سوزش، کھانسی، جلد کی خشکی، آنتوں کے زخم اور خون بہنے جیسے کئی امراض میں یکساں مفید ہے۔ اس کا مزاج معتدل ہے اس لیے یہ کمزور اور تندرست دونوں کے لیے موزوں ہے۔ مقدار خوراک ایک سے تین گرام یومیہ ہے۔ البتہ کسی بھی دوا کا استعمال ماہر طبیب کی ہدایت کے بغیر نہ کریں تاکہ مکمل فائدہ حاصل ہو اور کسی نقصان سے بچا جا سکے۔ گوند کتیرا کو اپنے روزمرہ کے استعمال میں شامل کریں اور قدرتی صحت سے لطف اندوز ہوں۔


اس آرٹیکل کو لازمی شیئر کریں تاکہ مخلوق خدا کا بھلا ہو۔ مزید طبی مشوروں کے لیے پاکستان کے نامور طبیب حکیم عمران کمبوہ صاحب سے رابطہ کریں۔ رابطے کے لیے دیے گئے نمبر پر واٹس ایپ کریں:
+923046539899


Scroll to Top