بھنگرہ بوٹی کے طبی فوائد، استعمال اور مکمل تعارف

بھنگرہ بوٹی کے طبی فوائد، اقسام

بھنگرہ بوٹی ایک قدرتی جڑی بوٹی ہے جو صدیوں سے طب یونانی اور آیورویدک نظام علاج میں استعمال ہوتی آ رہی ہے۔ یہ بوٹی پاکستان، ہندوستان اور افریقہ میں پانی کے کناروں پر خود بخود اُگتی ہے۔ اس کا لاطینی نام Eclipta Erecta ہے۔ بھنگرہ بوٹی خون صاف کرنے، بالوں کو سیاہ اور گھنے بنانے، بینائی کو تقویت دینے اور جلدی امراض میں نہایت مؤثر ہے۔ اس آرٹیکل میں آپ بھنگرہ بوٹی کی شناخت، اقسام، کیمیائی اجزاء، طبی فوائد، قدیم نسخے اور طریقۂ استعمال مکمل تفصیل کے ساتھ جانیں گے۔


بھنگرہ بوٹی کی شناخت اور تعارف

بھنگرہ ایک خودرو بوٹی ہے جو باغوں، کھیتوں اور ندی نالوں کے کناروں پر قدرتی طور پر اُگتی ہے۔ اس کا پودا زمین سے تین انچ سے لے کر نو انچ تک اونچا ہوتا ہے۔ اس کے پتے پودینے کے پتوں سے مشابہ ہوتے ہیں، تاہم چوڑائی میں تلسی کے پتوں جیسے ہوتے ہیں۔ پتوں کا رنگ گہرا سبز اور ذائقہ قدرے کڑوا اور تیز ہوتا ہے۔

پھول شاخوں کی گرہوں میں لگتے ہیں اور عموماً سفید رنگ کے ہوتے ہیں۔ اس کے بیج کاسنی کے بیجوں جیسے مگر ان سے چھوٹے اور مثلث نما ہوتے ہیں۔ برسات کے موسم میں یہ بوٹی بکثرت پیدا ہوتی ہے۔

بھنگرہ کے مختلف نام

بھنگرہ کو دنیا بھر میں مختلف ناموں سے جانا جاتا ہے:

زبان نام
لاطینی Eclipta Erecta
سنسکرت بھرنگ راج
بنگالی کیسوتی
ہندی بھنگرہ، بھینگرا
اردو بھنگرہ، سورن بھنگار

بھنگرہ کا مقامِ پیدائش

بھنگرہ بوٹی درج ذیل علاقوں میں پائی جاتی ہے:

  • پاکستان: تمام صوبوں میں خصوصاً پنجاب کے ندی نالوں کے کنارے
  • ہندوستان: مدراس، مشرقی اور مغربی پنجاب، احمد آباد، بمبئی
  • افریقہ: افریقہ کے تقریباً ہر علاقے میں سیاہ بھنگرہ بکثرت ملتا ہے
  • بنگال: کثیراج قسم کا بھنگرہ بنگال میں ملتا ہے

بھنگرہ بوٹی کی اقسام

ہندی طب کی کتب میں بھنگرہ کی تین اہم اقسام کا ذکر ملتا ہے۔ ہر قسم اپنے پھول کے رنگ اور خصوصیات کے لحاظ سے الگ ہے۔

پہلی قسم: سفید بھنگرہ

یہ سب سے عام قسم ہے جو پاکستان اور ہندوستان میں بکثرت ملتی ہے۔ اس کے پھول سفید رنگ کے ہوتے ہیں۔ اسے بھینگرا بھی کہتے ہیں۔ یہ قسم جلدی امراض اور خون صاف کرنے کے لیے بہت مفید ہے۔ زہریلے زخم دھونے کے لیے بھی اس کا رس استعمال ہوتا ہے۔

دوسری قسم: سیاہ بھنگرہ

یہ قسم نسبتاً کمیاب ہے۔ ویدک گرنتھوں میں سیاہ پھولوں والے بھنگرہ کو رسائن یعنی عمر بڑھانے والا قرار دیا گیا ہے۔ یہ افریقہ میں بکثرت ملتا ہے۔ بالوں کو قدرتی طور پر سیاہ کرنے کے لیے سیاہ بھنگرہ سب سے مؤثر سمجھا جاتا ہے۔

تیسری قسم: زرد بھنگرہ (کثیراج)

اس قسم کو کثیراج یا لیٹا ہوا بھنگرہ بھی کہتے ہیں۔ اس کے پھول زرد رنگ کے ہوتے ہیں اور پتے دیگر اقسام کی نسبت بڑے ہوتے ہیں۔ یہ قسم بنگال اور اس کے آس پاس کے علاقوں میں ملتی ہے۔ اسے سورن بھنگار بھی کہتے ہیں۔


بھنگرہ بوٹی کا کیمیائی تجزیہ

بھنگرہ بوٹی میں درج ذیل کیمیائی اجزاء پائے جاتے ہیں:

کیمیائی جزو مقدار / افعال
ویڈیلولیکٹون (Wedelolactone) جگر کی حفاظت، سوزش کش
کومیسٹرول (Coumestrol) اینٹی آکسیڈنٹ خصوصیات
ایکلیپٹین (Ecliptine) بالوں کی افزائش میں مددگار
نیکوٹینک ایسڈ (Nicotinic Acid) اعصابی نظام کی مضبوطی
سٹیرائڈز (Steroids) قوت باہ میں اضافہ
ٹینن (Tannins) زخم بھرنے اور جراثیم کش
الکلائڈز (Alkaloids) درد کش اور سوزش کش
فلیوونائڈز (Flavonoids) قوت مدافعت بڑھانے والے
وٹامن ای (Vitamin E) جلد اور بالوں کی صحت
وٹامن ڈی (Vitamin D) ہڈیوں کی مضبوطی
آئرن (Iron) خون میں ہیموگلوبن کا اضافہ
میگنیشیم (Magnesium) پٹھوں کی مضبوطی
کیلشیم (Calcium) ہڈیاں اور دانت مضبوط کرے

بھنگرہ میں موجود ویڈیلولیکٹون ایک خاص جزو ہے جو جگر کی حفاظت کرتا ہے اور سرطان کے خلاف مزاحمت میں مددگار سمجھا جاتا ہے۔ ایکلیپٹین نامی جزو بالوں کی جڑوں کو مضبوط بناتا ہے اور نئے بالوں کی افزائش میں مدد دیتا ہے۔


بھنگرہ بوٹی کا مزاج اور طبی خصوصیات

طب یونانی کے مطابق بھنگرہ کا مزاج اور افعال مندرجہ ذیل ہیں:

مزاج

گرم و خشک — درجہ دوم

یعنی یہ جسم میں گرمی اور خشکی پیدا کرتی ہے۔ اس لیے گرم مزاج کے لوگوں کو احتیاط سے استعمال کرنی چاہیے۔

طبی افعال

طبی اصطلاح معنی
مصفیٰ خون خون صاف کرنے والا
مقوی باہ جنسی قوت بڑھانے والا
مقوی بصر بینائی تیز کرنے والا
کاسر ریاح گیس خارج کرنے والا
محلل ورم اور گلٹیاں تحلیل کرنے والا

بھنگرہ بوٹی کے طبی فوائد

بھنگرہ بوٹی متعدد امراض میں شفاء بخش ثابت ہوئی ہے۔ ذیل میں اس کے اہم طبی فوائد بیان کیے جا رہے ہیں:

بالوں کے لیے فوائد

بھنگرہ بوٹی بالوں کی صحت کے لیے انتہائی مفید جڑی بوٹی ہے۔ اس میں موجود قدرتی اجزاء بالوں کی جڑوں کو مضبوط بناتے ہیں اور ان کے گرنے کو روکتے ہیں۔ سیاہ بھنگرہ قبل از وقت سفید ہونے والے بالوں کو پھر سے سیاہ کرنے میں مدد دیتا ہے۔

بھنگرہ کے باقاعدہ استعمال سے:

  • بال لمبے اور گھنے ہوتے ہیں
  • بالوں کی جڑیں مضبوط ہوتی ہیں
  • قبل از وقت سفید بال سیاہ ہوتے ہیں
  • بالوں میں قدرتی چمک آتی ہے

جلدی امراض میں فوائد

بھنگرہ کے پتے جلدی بیماریوں میں بہت مفید ہیں:

  • پھلبہری (برص): بھنگرہ کو پانی میں پیس کر لیپ کریں، ایک گھنٹے بعد دھو لیں
  • خارش اور جرب: بھنگرہ کا قرص یا رس استعمال کریں
  • جذام: فساد خون کے امراض میں برگ بھنگرہ مفید ہے
  • زخم: سفید بھنگرہ کے رس سے زہریلے زخم دھوئیں

خون اور دیگر فوائد

  • خون کو صاف کرتا ہے اور جسم کو طاقت دیتا ہے
  • آشوب چشم میں بھنگرہ کا پانی آنکھوں میں ڈالیں
  • بینائی کو تقویت ملتی ہے
  • پیٹ کی ریاح اور قولنج میں مفید ہے
  • جگر اور تلی کے بڑھ جانے میں جڑ کا لیپ مفید ہے
  • بچھو کاٹنے کی صورت میں پتوں کا لیپ درد کم کرتا ہے
  • نوزائیدہ بچوں کی بند ناک میں بھنگرہ کا رس مفید ہے
  • دانت درد اور منہ کے امراض میں بھنگرہ کی کلی فائدہ مند ہے

بھنگرہ کے مشہور طبی نسخے

نسخہ نمبر 1: بالوں کا تیل

اجزاء:

جزو مقدار
عرق بھنگرہ سیاہ بیس تولہ
آملہ تازہ کا پانی بیس تولہ
تلوں کا تیل (یا ناریل کا تیل) بیس تولہ

تیاری کا طریقہ:

  1. تمام اجزاء کو کڑاہی میں ڈالیں۔
  2. نرم آنچ پر پکائیں۔
  3. جب پانی مکمل خشک ہو جائے تو آگ بند کریں۔
  4. تیل کو چھان کر صاف بوتل میں محفوظ کریں۔

استعمال کا طریقہ:

رات کو سونے سے پہلے بالوں میں اچھی طرح لگائیں اور صبح دھو لیں۔ تین ماہ کے مسلسل استعمال سے سفید بال قدرتی طور پر سیاہ ہو جاتے ہیں اور بال لمبے اور گھنے ہو جاتے ہیں۔


نسخہ نمبر 2: خارش کا قدیم نسخہ

اجزاء:

جزو مقدار
بھنگرہ کے پتے آدھا تولہ
جوانسہ چار ماشہ
چرائتہ کے پتے چار ماشہ
سرپھوکہ چار ماشہ
خالص پانی آٹھ تولہ
شہد دو تولہ

تیاری کا طریقہ:

  1. تمام جڑی بوٹیاں پانی میں اچھی طرح گھوٹیں۔
  2. کپڑے سے چھان لیں۔
  3. چھنے ہوئے پانی میں شہد ملائیں۔

استعمال کا طریقہ:

روزانہ ایک بار ایک ہفتے تک پئیں۔ ایک ہفتے کے استعمال سے تمام بدن درست ہو جاتا ہے اور خارش کا نام و نشان نہیں رہتا۔


نسخہ نمبر 3: نوزائیدہ بچوں کی بند ناک

اجزاء:

جزو مقدار
بھنگرہ کا رس دو بوندیں
خالص شہد آٹھ بوندیں

تیاری اور استعمال:

بھنگرہ کے رس کو شہد میں ملا کر نوزائیدہ بچے کو پلائیں۔ بند ناک میں فوری آرام ملتا ہے۔


نسخہ نمبر 4: آشوب چشم کا علاج

اجزاء:

جزو مقدار
بھنگرہ کا تازہ رس چند بوندیں

استعمال:

بھنگرہ کا تازہ رس نکال کر آنکھوں میں قطرے ڈالیں۔ آشوب چشم یعنی آنکھوں کی سوزش اور لالی میں فائدہ ہوتا ہے۔ یہ عمل دن میں دو بار کریں۔


نسخہ نمبر 5: ورم اور گلٹیوں کا علاج

اجزاء:

جزو مقدار
بھنگرہ کی جڑ یا پتے حسبِ ضرورت
پانی حسبِ ضرورت

تیاری اور استعمال:

بھنگرہ کی جڑ کو پیس کر لیپ بنائیں اور ورم والی جگہ پر لگائیں۔ اس سے جگر اور تلی کا بڑھاؤ بھی کم ہوتا ہے۔ محلل ہونے کی وجہ سے یہ اورام کو تحلیل کرتا ہے۔


نسخہ نمبر 6: بچھو کاٹنے کا علاج

اجزاء:

جزو مقدار
بھنگرہ کے تازہ پتے مٹھی بھر

استعمال:

بھنگرہ کے تازہ پتے پیس کر بچھو کے کاٹے ہوئے مقام پر لیپ لگائیں۔ اس سے درد میں فوری تسکین ملتی ہے اور زہر کا اثر کم ہوتا ہے۔


بھنگرہ کی مقدارِ خوراک

صحیح مقدار میں استعمال ہی کسی دوا کو مفید بناتا ہے۔ بھنگرہ کی مقدارِ خوراک مندرجہ ذیل ہے:

حصہ مقدارِ خوراک
پتے (برگ بھنگرہ) پانچ سے سات گرام
بیج (تخم بھنگرہ) ایک سے تین گرام
پتے (ماشہ میں) پانچ سے چھ ماشہ
بیج (ماشہ میں) ایک سے دو ماشہ

بھنگرہ کے نقصانات اور احتیاط

ممکنہ نقصانات

  • گرم مزاج کے افراد کو بھنگرہ کا زیادہ استعمال نقصان دہ ہو سکتا ہے
  • خون میں گرمی بڑھا سکتا ہے
  • زیادہ مقدار میں استعمال سے معدے میں تکلیف ہو سکتی ہے

مصلح (نقصانات دور کرنے والی اشیاء)

بھنگرہ کے نقصانات دور کرنے کے لیے ساتھ یہ چیزیں استعمال کریں:

  • شہد
  • ادرک
  • کالی مرچ

بدل (متبادل)

اگر بھنگرہ میسر نہ ہو تو اس کا بدل بنولہ ہے۔


اختتامیہ

بھنگرہ بوٹی قدرت کا ایک انمول تحفہ ہے جو بالوں، خون، جلد اور متعدد امراض میں شفاء بخش اثرات رکھتی ہے۔ یہ سستی، آسانی سے دستیاب اور انتہائی مؤثر جڑی بوٹی ہے۔ خارش، پھلبہری، آشوب چشم اور بالوں کے مسائل میں اس کا استعمال صدیوں سے آزمایا ہوا ہے۔ بھنگرہ کا تیل بالوں کے لیے نہایت مفید ہے۔ احتیاط کے ساتھ اور صحیح مقدار میں استعمال سے زبردست نتائج حاصل ہوتے ہیں۔ گرم مزاج کے لوگ شہد اور ادرک کے ساتھ استعمال کریں۔


اس آرٹیکل کو لازمی شیئر کریں تاکہ مخلوقِ خدا کا بھلا ہو۔ مزید طبی مشوروں کے لیے پاکستان کے نامور طبیب حکیم عمران کمبوہ صاحب سے رابطہ کریں۔ رابطے کے لیے دیے گئے نمبر پر واٹس ایپ کریں:

+923046539899

Scroll to Top