پھٹکری کے فوائد جنسی جلد، خشکی اور بدبو سے نجات

پھٹکری کے فوائد جنسی جلد، بالوں اور جسمانی صفائی

تعارف

پھٹکری (شب یمانی)

Alum

دیگر نام

عربی میں زاج ابیض یا شب یمانی، فارسی میں زاک سفید یا زمہ، بنگلہ میں پھٹھپڑی یا فٹکری، مرہٹی میں پھٹکی، سندھی میں پٹکی اور انگریزی میں Alum کہتے ہیں۔

ماہیت

پھٹکڑی شیشے اور نمک کی مانند سفید، بے رنگ ڈلیوں کی شکل میں پائی جاتی ہے۔ اس کا ذائقہ قدرے شیریں اور کسیلا ہوتا ہے۔ اس کی ڈلیاں نمک سے مشابہ ہوتی ہیں لیکن وزن میں نمک سے ہلکی ہوتی ہیں۔ یہ دس حصے ٹھنڈے پانی میں اور اپنے وزن سے تقریباً تین گنا کھولتے ہوئے پانی میں حل ہو جاتی ہے۔

اقسام

پھٹکڑی بنیادی طور پر دو قسم کی ہوتی ہے:

  1. ایلومینیم سلفیٹ کو پوٹاشیم سلفیٹ کے ساتھ ملا کر تیار کی جاتی ہے۔
  2. ایلومینیم سلفیٹ کو ایمونیم سلفیٹ کے ساتھ ملا کر تیار کی جاتی ہے۔

اگرچہ ان دونوں کی کیمیائی ساخت میں فرق ہوتا ہے، لیکن ان کے افعال اور خواص تقریباً یکساں ہوتے ہیں۔

رنگت

رنگت کے اعتبار سے پھٹکڑی کی کئی اقسام پائی جاتی ہیں، تاہم سفید اور سرخ پھٹکڑی زیادہ مشہور ہیں۔ اس کے علاوہ یہ قدرتی اور مصنوعی دونوں شکلوں میں دستیاب ہوتی ہے۔

قدرتی پھٹکڑی یمن کے پہاڑوں سے ٹپک کر جمتی ہے، اسی مناسبت سے اسے شب یمانی بھی کہا جاتا ہے۔

مقامِ پیدائش

قدیم زمانے میں پاکستان کے صوبہ پنجاب میں پھٹکڑی بنانے کے دو مشہور کارخانے موجود تھے:

  • کالاباغ
  • کٹکی

جبکہ ہندوستان میں اس کی تیاری کے مراکز بہار اور بمبئی تھے۔

مزاج

گرم و خشک درجہ سوم

افعال و خواص

پھٹکڑی کے اہم افعال درج ذیل ہیں:

  • قابض
  • مسکن
  • حابس الدم
  • مجففِ رطوبت
  • مقئی
  • مخرجِ جنین و مشیمہ
  • دافع بخار

جبکہ پھٹکڑی بریاں کے خواص میں:

  • جالی
  • اکّال
  • منفثِ بلغم

شامل ہیں۔

بیرونی استعمال

منہ، مسوڑھوں اور حلق کے امراض میں

پھٹکڑی اپنی قابض اور مجفف خصوصیات کی وجہ سے درج ذیل امراض میں مفید سمجھی جاتی ہے:

  • قروحِ لثہ
  • سیلانِ خونِ لثہ
  • استرخائے لثہ
  • قلاع
  • ورمِ لوزتین
  • ورمِ حلق
  • دانتوں کا ہلنا

ان امراض میں اسے سنون، ذرور یا غرغرے کی صورت میں استعمال کیا جاتا ہے۔

رحم اور اندامِ نہانی کے امراض میں

پھٹکڑی کا حمول رحم سے خون بہنے میں مفید سمجھا جاتا ہے۔ سیلان الرحم میں اس کے آبی محلول سے ڈوش دیا جاتا ہے جو:

  • اندامِ نہانی کی سوزش
  • خارش
  • وضع حمل کے بعد رحم کی کشادگی

میں مفید تصور کیا جاتا ہے۔

نکسیر اور ناک کے زخم

نکسیر اور ناک کے زخموں میں اس کے محلول کی پچکاری کی جاتی ہے۔ قابض اور حابس الدم ہونے کی وجہ سے معمولی زخموں کو بھی اس کے محلول سے دھویا جاتا ہے۔

زخموں میں استعمال

پھٹکڑی بریاں اپنے اکّال اثر کی وجہ سے خراب اور فاسد گوشت کو دور کرنے کے لیے زخموں پر چھڑکی جاتی ہے۔

آشوبِ چشم

آشوبِ چشم میں ڈھائی تولہ عرقِ گلاب میں دو رتی پھٹکڑی حل کر کے آنکھ میں ڈالنا مفید اور مجرب بیان کیا گیا ہے۔

اندرونی استعمال

چوٹ اور ضرب میں

چوٹ لگنے کی صورت میں پھٹکڑی کو دودھ کے ساتھ استعمال کرنا مفید بتایا گیا ہے۔

اسہالِ مزمن

اسہالِ مزمن میں اسے بطور سفوف استعمال کرایا جاتا ہے۔

معدہ اور آنتوں کے خون میں

قابض اور حابس الدم ہونے کی وجہ سے معدہ اور آنتوں کے سیلانِ خون میں تنہا یا دیگر ادویہ کے ساتھ استعمال کی جاتی ہے۔

نوبتی بخار

نوبتی بخار میں بخار کی متوقع آمد سے تقریباً تین گھنٹے پہلے پھٹکڑی دی جاتی ہے۔ اگر مریض کو قبض نہ ہو تو بخار رک جانے کا امکان بیان کیا گیا ہے۔

بچوں کے امراضِ صدر

بچوں کے امراضِ صدر مثلاً:

  • خناق
  • سرجہ

میں پھٹکڑی کو مقئی مقدار میں استعمال کرنے سے قے آ جاتی ہے جس کے نتیجے میں مرض میں افاقہ ہو جاتا ہے۔

اس مقصد کے لیے پھٹکڑی کو باریک پیس کر شہد یا شربت میں ملا کر ایک ایک گھنٹے کے وقفے سے چند مرتبہ دیا جاتا ہے۔

کالی کھانسی

کالی کھانسی میں دو سے چار رتی پھٹکڑی شہد یا شربت میں ملا کر دینے سے کھانسی میں فائدہ بیان کیا گیا ہے۔

پانی صاف کرنے کے لیے پھٹکڑی کا استعمال

ایک گیلن پانی میں پانچ سے چھ گرین پھٹکڑی حل کر دی جائے تو یہ پانی میں موجود حل شدہ کثافتوں کو غیر محلول رسوب میں تبدیل کر دیتی ہے۔ اس کے ساتھ دوسری معلق کثافتیں بھی تہہ نشین ہو جاتی ہیں۔

پھٹکڑی پانی میں موجود بیکٹیریا کی تعداد کم کرنے میں مدد دیتی ہے، لیکن وائرس کو ختم نہیں کرتی۔

دراصل پانی میں موجود کاربونیٹس، پھٹکڑی کے ساتھ مل کر جیلی نما مادہ بناتے ہیں جس کے ساتھ بیکٹیریا اور دیگر ذرات چپک جاتے ہیں اور نیچے بیٹھ جاتے ہیں۔

اس مقصد کے لیے پانی کو تقریباً بارہ گھنٹے تک بغیر ہلائے رکھا جاتا ہے۔ تاہم وبائی امراض کے دنوں میں پانی کو ابال کر پینا زیادہ محفوظ سمجھا جاتا ہے۔

نفعِ خاص

پھٹکڑی خصوصاً درج ذیل امراض میں مفید بیان کی گئی ہے:

  • گردہ کے امراض
  • مثانہ کے امراض
  • آنکھ کے امراض

مضر اثرات

پھٹکڑی درج ذیل اعضاء کے لیے مضر بیان کی گئی ہے:

  • پھیپھڑے
  • معدہ
  • آنتیں

مصلح

اس کے مصلحات درج ذیل ہیں:

  • دودھ
  • روغنیات

بدل

اس کے متبادل درج ذیل ہیں:

  • سرخ پھٹکڑی
  • نوشادر

مقدارِ خوراک

دو سے چار رتی

پھٹکری کے فوائد صدیوں سے روایتی طب اور گھریلو نگہداشت کا حصہ رہے ہیں۔ یہ ایک عام اور سستی چیز ہے جو اکثر گھروں میں آسانی سے دستیاب ہوتی ہے۔ بہت سے لوگ جلد کی صفائی، بالوں کی دیکھ بھال اور جسمانی بدبو کم کرنے کے لیے اس کا استعمال کرتے ہیں۔ اگرچہ پھٹکری کے کئی فوائد عوامی تجربات اور روایتی معلومات پر مبنی ہیں، تاہم ہر فرد کا جسم مختلف ردِعمل دے سکتا ہے۔ اسی لیے احتیاط کے ساتھ استعمال کرنا ضروری ہے۔ اس آرٹیکل میں ہم پھٹکری کے استعمال، جلد اور بالوں کے لیے اس کے ممکنہ فوائد، احتیاطی تدابیر اور عام سوالات کے جوابات تفصیل سے بیان کریں گے تاکہ آپ درست اور متوازن معلومات حاصل کر سکیں۔

پھٹکری کے فوائد اور جلد کی قدرتی نگہداشت

پھٹکری کو جلد کی صفائی اور خوبصورتی کے لیے کافی عرصے سے استعمال کیا جا رہا ہے۔ اس کی سکڑاؤ پیدا کرنے والی خصوصیات جلد کو وقتی طور پر ہموار اور صاف محسوس کرا سکتی ہیں۔ بہت سے افراد اسے اپنی روزمرہ جلدی نگہداشت میں شامل کرتے ہیں۔

کیل مہاسوں اور دانوں کے لیے پھٹکری

کیل مہاسے اور دانے نوجوانوں اور بڑوں دونوں کے لیے پریشانی کا سبب بن سکتے ہیں۔ بعض لوگ پھٹکری کو باریک پیس کر پانی میں ملا کر متاثرہ حصے پر لگاتے ہیں۔ اس طریقے کا مقصد جلد کی اضافی چکنائی اور سطحی آلودگی کو کم کرنا ہوتا ہے۔

استعمال کا طریقہ:

  1. تھوڑی مقدار میں پھٹکری پیس لیں۔
  2. پانی ملا کر گاڑھا پیسٹ تیار کریں۔
  3. متاثرہ جگہ پر لگائیں۔
  4. تقریباً 15 سے 20 منٹ بعد دھو لیں۔

اہم نوٹ: حساس جلد والے افراد پہلے پیچ ٹیسٹ ضرور کریں۔ اگر جلن، خارش یا سرخی پیدا ہو تو استعمال بند کر دیں۔

جلد کو تروتازہ اور ٹائٹ محسوس کرنے کے لیے

عمر بڑھنے کے ساتھ جلد کی لچک میں کمی آنا ایک قدرتی عمل ہے۔ روایتی طور پر پھٹکری کا ہلکا محلول چہرے پر لگایا جاتا ہے تاکہ جلد زیادہ تازہ اور متوازن محسوس ہو۔

بہت سے لوگ پھٹکری کو پانی میں ملا کر چہرے پر لگاتے ہیں اور چند منٹ بعد دھو لیتے ہیں۔ بعض افراد کے مطابق اس سے جلد وقتی طور پر زیادہ ٹائٹ محسوس ہوتی ہے۔ تاہم مستقل نتائج کے لیے متوازن غذا، مناسب پانی اور جلد کی باقاعدہ دیکھ بھال ضروری ہے۔

پھٹکری کے استعمال اور جھریوں کی دیکھ بھال

چہرے کی جھریاں عمر، سورج کی شعاعوں اور طرزِ زندگی کی وجہ سے پیدا ہو سکتی ہیں۔ پھٹکری کو بعض گھریلو نسخوں میں جھریوں کی دیکھ بھال کے لیے استعمال کیا جاتا ہے۔

جھریوں کے لیے روایتی طریقہ

ایک چھوٹا ٹکڑا پھٹکری کا پانی سے گیلا کریں اور چہرے پر ہلکے ہاتھ سے پھیریں۔ چند منٹ بعد چہرہ دھو لیں۔ بعد ازاں عرقِ گلاب اور موئسچرائزر استعمال کیا جا سکتا ہے۔

اس طریقے کے دوران درج ذیل باتوں کا خیال رکھیں:

• زیادہ زور سے رگڑنے سے گریز کریں۔
• خشک جلد والے افراد موئسچرائزر ضرور استعمال کریں۔
• ہفتے میں دو سے تین بار سے زیادہ استعمال نہ کریں۔

یاد رکھیں کہ جھریوں کے خاتمے کے حوالے سے مضبوط سائنسی شواہد محدود ہیں، اس لیے اسے صرف ایک روایتی طریقہ سمجھا جائے۔

بالوں کی صحت اور خشکی سے نجات کے لیے پھٹکری

بالوں اور کھوپڑی کی صفائی کے لیے بھی پھٹکری کے استعمال کا ذکر کیا جاتا ہے۔ خاص طور پر خشکی اور جوؤں کے مسئلے میں اسے گھریلو نسخوں کا حصہ بنایا جاتا ہے۔

خشکی کم کرنے کے روایتی طریقے

خشکی ایک عام مسئلہ ہے جو کھوپڑی میں خارش اور سفید ذرات پیدا کرتا ہے۔ بعض لوگ اپنے شیمپو میں معمولی مقدار میں پھٹکری اور نمک شامل کر کے استعمال کرتے ہیں۔

ممکنہ فوائد:

• کھوپڑی کی صفائی بہتر محسوس ہو سکتی ہے۔
• اضافی چکنائی کم ہو سکتی ہے۔
• بال زیادہ صاف محسوس ہو سکتے ہیں۔

اگر خشکی شدید ہو یا مسلسل برقرار رہے تو جلدی امراض کے ماہر سے مشورہ کرنا بہتر ہے۔

جوؤں کے لیے گھریلو نسخہ

پھٹکری، پانی اور تیل ملا کر ایک ہلکا سا آمیزہ تیار کیا جاتا ہے۔ اسے بالوں میں لگانے کے بعد کچھ وقت کے لیے چھوڑ دیا جاتا ہے اور پھر اچھی طرح دھو لیا جاتا ہے۔

یہ طریقہ روایتی معلومات پر مبنی ہے۔ اگر بچوں میں جوؤں کا مسئلہ زیادہ ہو تو مستند طبی علاج کو ترجیح دی جانی چاہیے۔

جسمانی بدبو اور پھٹی ایڑیوں کے لیے پھٹکری

جسمانی صفائی اور پاؤں کی نگہداشت میں بھی پھٹکری کے استعمال کا ذکر کیا جاتا ہے۔ اس مقصد کے لیے اسے قدرتی نگہداشت کے طریقوں میں شامل کیا جاتا ہے۔

جسمانی بدبو کم کرنے میں مددگار

پھٹکری کو قدرتی ڈیوڈرنٹ کے طور پر استعمال کیا جاتا ہے۔ گیلی پھٹکری کو بغلوں یا بدبو والی جگہوں پر ہلکے ہاتھ سے لگایا جا سکتا ہے۔

ممکنہ فوائد:

• جسمانی بدبو میں کمی محسوس ہو سکتی ہے۔
• جلد پر صفائی کا احساس پیدا ہو سکتا ہے۔
• روزمرہ نگہداشت میں آسانی سے شامل کی جا سکتی ہے۔

پھٹی ایڑیوں کے لیے روایتی نسخہ

پھٹی ہوئی ایڑیاں نہ صرف بدصورت لگتی ہیں بلکہ تکلیف بھی دے سکتی ہیں۔ بعض افراد پھٹکری کو گرم کر کے اس کا نرم پاؤڈر تیار کرتے ہیں اور اس میں ناریل کا تیل ملا لیتے ہیں۔

اس آمیزے کو ایڑیوں پر لگانے سے جلد نرم محسوس ہو سکتی ہے۔ بہتر نتائج کے لیے پاؤں کو صاف رکھنا اور مناسب نمی برقرار رکھنا بھی ضروری ہے۔

پھٹکری استعمال کرتے وقت ضروری احتیاطی تدابیر

پھٹکری کے فوائد حاصل کرنے کے لیے احتیاطی تدابیر پر عمل کرنا بے حد ضروری ہے۔

مندرجہ ذیل باتوں کو ہمیشہ یاد رکھیں:

  1. حساس جلد والے افراد پہلے پیچ ٹیسٹ کریں۔
  2. جلن یا الرجی کی صورت میں استعمال بند کریں۔
  3. آنکھوں کے قریب استعمال نہ کریں۔
  4. بچوں پر استعمال سے پہلے احتیاط کریں۔
  5. جلدی بیماری کی صورت میں ڈاکٹر سے مشورہ لیں۔

مزید معلومات کے لیے آپ جلد کی صحت سے متعلق مضامین، بالوں کی نگہداشت کی گائیڈ اور قدرتی گھریلو نسخوں کے مضامین بھی پڑھ سکتے ہیں۔

مستند معلومات کے لیے:
https://www.who.int
https://www.mayoclinic.org

اختتامیہ

پھٹکری کے فوائد کے حوالے سے مختلف روایتی استعمالات مشہور ہیں۔ جلد کی صفائی، خشکی، جسمانی بدبو اور پھٹی ایڑیوں کے لیے لوگ اسے برسوں سے استعمال کرتے آ رہے ہیں۔ تاہم ہر فرد کی جلد اور جسم مختلف ہوتا ہے، اس لیے احتیاط ضروری ہے۔

اس آرٹیکل کو لازمی شیئر کریں تاکہ مخلوقِ خدا کا بھلا ہو۔ مزید طبی مشوروں کے لیے پاکستان کے نامور طبیب _حکیم عمران کمبوہ_ صاحب سے رابطہ کریں۔ رابطہ کے لیے واٹس ایپ کریں: _923046539899+_

Scroll to Top