معجون اذراقی فالج، رعشہ اور قوتِ باہ کا مجرب طبی نسخہ

معجون اذراقی — فالج، رعشہ، اعصابی کمزوری اور قوتِ باہ کا مجرب طبی نسخہ

معجون اذراقی طبی فارماکوپیا کا ایک انتہائی مشہور اور آزمودہ مرکب ہے۔ صدیوں سے حکمائے کرام اس نسخے کو مختلف طریقوں سے تیار کرتے آئے ہیں۔ یہ دوا سارا سال استعمال کی جا سکتی ہے اور ہر موسم میں یکساں فائدہ دیتی ہے۔ خاص طور پر بلغمی اور اعصابی مزاج والے افراد کے لیے یہ نسخہ بے مثال ہے۔ اس آرٹیکل میں آپ کو معجون اذراقی کے تمام اجزاء، ان کا کیمیائی تجزیہ، فوائد، تیاری کا مکمل طریقہ اور خوراک کی مکمل معلومات ملیں گی۔


معجون اذراقی کیا ہے؟ — تعارف اور تاریخی پسِ منظر

معجون اذراقی طبِ یونانی کے قدیم اور معتبر نسخوں میں سے ایک ہے۔ یہ مرکب دوا شہد کے قوام میں تیار کی جاتی ہے اس لیے اسے “معجون” کہتے ہیں۔ طبِ یونانی میں معجون وہ دوا ہوتی ہے جو سفوف (پاؤڈر) کو شہد یا شکر کے قوام میں ملا کر تیار کی جائے۔

اس نسخے کا نام “اذراقی” ایک قدیم طبیب کے نام سے منسوب ہے جنہوں نے اسے پہلی بار مرتب کیا۔ بعد میں اطباء کرام نے اس میں ضرورت کے مطابق ردوبدل کیا لیکن بنیادی اجزاء ہمیشہ یکساں رہے۔

طبِ یونانی میں معجون کی اہمیت

طبِ یونانی میں معجون کو سفوف سے زیادہ مؤثر مانا جاتا ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ شہد دوا کو جسم میں تیزی سے جذب کرنے میں مدد دیتا ہے۔ شہد خود بھی ایک قوی دوا ہے جو اعصاب اور قلب کو تقویت دیتی ہے۔

معجون اذراقی خاص طور پر ان افراد کے لیے بنایا گیا ہے جو اعصابی کمزوری، بلغمی امراض یا بڑھاپے کی وجہ سے جسمانی کمزوری میں مبتلا ہوں۔ چالیس سال سے اوپر کے افراد کو اس دوا سے غیرمعمولی فائدہ ہوتا ہے۔


معجون اذراقی کے طبی فوائد — مکمل تفصیل

معجون اذراقی کے فوائد انتہائی وسیع ہیں۔ یہ دوا ایک ساتھ کئی بیماریوں میں کام کرتی ہے۔ ذیل میں تمام فوائد تفصیل سے بیان کیے گئے ہیں۔

قلب اور عضلات کو تقویت دینا

معجون اذراقی ایک بہترین مقوی قلب دوا ہے۔ یہ دل کی دھڑکن کو منظم کرتی ہے اور دل کے عضلات کو مضبوط بناتی ہے۔ گاؤزبان اور شقاقل مصری مل کر قلب پر براہِ راست تقویت بخش اثر ڈالتے ہیں۔

عضلات یعنی جسم کے پٹھے بھی اس دوا سے مضبوط ہوتے ہیں۔ کمزور پٹھے اکثر اعصابی کمزوری کی وجہ سے ہوتے ہیں۔ معجون اذراقی اعصابی نظام کو طاقت دے کر پٹھوں کی کمزوری دور کرتی ہے۔

فالج اور رعشہ میں افادیت

فالج اور رعشہ اعصابی نظام کی خرابی سے پیدا ہوتے ہیں۔ معجون اذراقی اعصاب کو تقویت دینے کی بے مثال صلاحیت رکھتی ہے۔ اذراقی مدبر اور اسطوخودوس مل کر اعصابی نظام کو بحال کرتے ہیں۔

فالج کے مریضوں میں یہ دوا ابتدائی مراحل میں زیادہ مؤثر ہے۔ رعشہ یعنی ہاتھ پاؤں کا کانپنا بھی اس دوا سے کنٹرول ہوتا ہے۔ باقاعدہ استعمال سے اعصابی سگنل بہتر ہوتے ہیں اور حرکت میں آسانی آتی ہے۔

قوتِ باہ میں اضافہ

معجون اذراقی قوتِ باہ یعنی جنسی قوت بڑھانے کے لیے مجرب ہے۔ مغز چلغوزہ، شقاقل مصری اور اذراقی مدبر مل کر جنسی کمزوری دور کرتے ہیں۔ چالیس سال سے اوپر کے مردوں کے لیے یہ دوا خاص طور پر مفید ہے۔

جنسی کمزوری اکثر اعصابی تھکاوٹ اور خون کی کمی سے پیدا ہوتی ہے۔ یہ مرکب ان دونوں وجوہات کو دور کرتا ہے۔ باقاعدہ استعمال سے توانائی اور اعتماد دونوں بحال ہوتے ہیں۔

بلغمی امراض میں فائدہ

بلغمی مزاج والے افراد اکثر سستی، کاہلی، نزلہ اور جوڑوں کے درد میں مبتلا رہتے ہیں۔ معجون اذراقی بلغم کو خشک کرتی ہے اور جسم سے نکالتی ہے۔ اسطوخودوس اور زرنباد مل کر بلغمی امراض کا بہترین علاج کرتے ہیں۔

نزلہ، زکام، بلغمی کھانسی اور سینے کی بلغم میں یہ دوا نمایاں فائدہ دیتی ہے۔ اعصابی مزاج والے افراد جن میں گھبراہٹ، بے چینی اور نیند کی کمی ہو انہیں بھی اس دوا سے سکون ملتا ہے۔

چالیس سال سے اوپر افراد کے لیے بہترین

عمر کے ساتھ جسم کی قوتیں کمزور ہونے لگتی ہیں۔ اعصاب، قلب اور پٹھے سبھی کمزور ہوتے جاتے ہیں۔ معجون اذراقی اس قدرتی کمزوری کو روکنے اور دور کرنے میں مدد دیتی ہے۔

چالیس سال سے اوپر کے افراد جو جسمانی تھکاوٹ، یادداشت کی کمزوری اور طاقت کی کمی محسوس کریں انہیں یہ دوا ضرور آزمانی چاہیے۔ یہ ایک مکمل طاقت بخش مرکب ہے جو جسم کو اندر سے مضبوط کرتا ہے۔


معجون اذراقی کے اجزاء — مکمل تفصیل

معجون اذراقی بارہ مخصوص جڑی بوٹیوں اور معدنیات سے مل کر تیار ہوتی ہے۔ ہر جزء اپنی مخصوص طبی خصوصیات کا حامل ہے۔ ذیل میں ہر جزء کی الگ تفصیل دی گئی ہے۔

۱۔ اذراقی مدبر — ۲۰ گرام

اذراقی مدبر اس نسخے کا مرکزی اور سب سے اہم جزء ہے۔ “مدبر” کا مطلب ہے کہ اسے ایک خاص عمل سے گزار کر تیار کیا گیا ہے تاکہ اس کے نقصاندہ اثرات ختم ہو جائیں اور فوائد بڑھ جائیں۔

  • اعصاب کو گہری تقویت دیتا ہے
  • فالج اور رعشہ میں مؤثر ہے
  • قوتِ باہ بڑھاتا ہے
  • سب سے زیادہ مقدار میں استعمال ہوتا ہے

۲۔ برگ گاؤزبان — ۱۵ گرام

گاؤزبان (Borago officinalis) کے پتے دل اور دماغ کو سکون دینے کے لیے مشہور ہیں۔ یہ اعصابی بے چینی کو دور کرتے ہیں اور گھبراہٹ کم کرتے ہیں۔

  • قلب کو تقویت دیتا ہے
  • دماغ کو سکون دیتا ہے
  • بلغمی حرارت کو معتدل کرتا ہے
  • خون کو صاف کرتا ہے

۳۔ اسطوخودوس — ۱۰ گرام

اسطوخودوس (Lavandula stoechas) طبِ یونانی میں دماغی اور اعصابی امراض کے لیے مشہور ترین جڑی بوٹی ہے۔

  • دماغی کمزوری دور کرتا ہے
  • بلغم خشک کرتا ہے
  • سردرد اور چکر میں مفید ہے
  • اعصابی نظام کو مضبوط کرتا ہے

۴۔ گوند کیترا — ۱۰ گرام

گوند کیترا (Tragacanth) ایک قدرتی گوند ہے جو درختوں سے حاصل ہوتی ہے۔

  • جسم میں تری اور نمی برقرار رکھتی ہے
  • معدے اور آنتوں کو ٹھنڈک دیتی ہے
  • جسم کو اندر سے نرم اور لچکدار رکھتی ہے
  • بلغمی جھلیوں کو مضبوط کرتی ہے

۵۔ ناریل — ۱۰ گرام

ناریل کا گودا طبِ یونانی میں مقوی اعضاء کے طور پر استعمال ہوتا ہے۔

  • جسمانی توانائی بڑھاتا ہے
  • دماغ اور اعصاب کو غذائیت دیتا ہے
  • جسم میں صحتمند چکنائی فراہم کرتا ہے
  • قوتِ باہ میں اضافہ کرتا ہے

۶۔ مغز چلغوزہ — ۱۰ گرام

چلغوزہ پاکستان کے پہاڑی علاقوں کی قیمتی پیداوار ہے۔ اس کا مغز انتہائی غذائیت بخش ہے۔

  • دماغ اور اعصاب کو تقویت دیتا ہے
  • قوتِ باہ بڑھاتا ہے
  • جسم کو گرم اور توانا رکھتا ہے
  • خشکی دور کرتا ہے

۷۔ دانہ الائچی سبز — ۱۰ گرام

سبز الائچی ایک مشہور مصالحہ اور دوائی جزء ہے۔

  • معدے کو تقویت دیتی ہے
  • منہ کی بدبو دور کرتی ہے
  • دل کی گھبراہٹ کم کرتی ہے
  • دوسرے اجزاء کے ذائقے کو بہتر کرتی ہے

۸۔ زرنباد — ۱۰ گرام

زرنباد (Curcuma zedoaria) ادرک کے خاندان کا ایک پودا ہے۔

  • بلغمی امراض میں بہت مفید ہے
  • اعصابی کمزوری دور کرتا ہے
  • درد اور سوزش ختم کرتا ہے
  • ہاضمے کو بہتر کرتا ہے

۹۔ شقاقل مصری — ۱۰ گرام

شقاقل مصری طبِ یونانی میں ایک بہترین مقوی دوا ہے۔

  • قوتِ باہ اور جنسی طاقت بڑھاتا ہے
  • اعصاب کو تقویت دیتا ہے
  • بدن کو فربہ اور توانا کرتا ہے
  • خون بڑھاتا ہے

۱۰۔ صندل سفید — ۱۰ گرام

صندل سفید (Santalum album) ایک قیمتی طبی جزء ہے۔

  • دل اور دماغ کو ٹھنڈک دیتا ہے
  • جگر کی گرمی کم کرتا ہے
  • اعصابی بے چینی دور کرتا ہے
  • خون صاف کرتا ہے

۱۱۔ آملہ — ۱۰ گرام

آملہ (Phyllanthus emblica) طبِ یونانی اور آیورویدک دونوں میں مشہور ترین دوا ہے۔

  • وٹامن سی کا بھرپور ذریعہ ہے
  • قوتِ مدافعت بڑھاتا ہے
  • بالوں اور جلد کے لیے مفید ہے
  • جگر کو صاف اور مضبوط کرتا ہے

۱۲۔ ہلیلہ سیاہ — ۱۰ گرام

ہلیلہ سیاہ (Terminalia chebula) طبِ یونانی میں ایک جامع دوا مانی جاتی ہے۔

  • ہاضمے کو درست کرتی ہے
  • بلغم اور صفرا کو متوازن کرتی ہے
  • آنتوں کو صاف کرتی ہے
  • جسم سے زہریلے مادے خارج کرتی ہے

۱۳۔ شہد — تمام ادویات سے تین گنا مقدار

شہد اس نسخے کی بنیاد اور قوام ہے۔ خالص شہد استعمال کرنا ضروری ہے۔

  • دوا کو محفوظ رکھتا ہے
  • دوسرے اجزاء کو جسم میں تیزی سے جذب کرواتا ہے
  • اعصاب اور قلب کو تقویت دیتا ہے
  • قدرتی محافظ (Preservative) کا کام کرتا ہے

اجزاء کا کیمیائی تجزیہ

 اجزاء کے کیمیائی مرکبات اور طبی خصوصیات

جزء اہم کیمیائی مرکبات طبی خاصیت مزاج
اذراقی مدبر سلفائیڈ مرکبات، الکلائیڈز اعصاب کی تقویت، قوتِ باہ گرم و خشک
برگ گاؤزبان الانٹوئن، میوسی لیج، پائرولیزیڈین الکلائیڈز قلب اور دماغ کو سکون سرد و تر
اسطوخودوس لیناریل اسیٹیٹ، لیناریل، فلیوونائیڈز دماغی اور اعصابی تقویت گرم و خشک
گوند کیترا پولی سیکرائیڈز، ٹریگاکینتھک ایسڈ تری بخش، محافظ سرد و تر
ناریل میڈیم چین فیٹی ایسڈز، لیوریک ایسڈ توانائی اور غذائیت گرم و تر
مغز چلغوزہ پائنولینک ایسڈ، وٹامن ای، زنک دماغی اور جنسی تقویت گرم و تر
الائچی سبز سنیئول، ٹرپینیل اسیٹیٹ، لیمونین معدے کی تقویت، خوشبو گرم و خشک
زرنباد زنجیبرین، زیڈوارون، کرکیومینائیڈز بلغم کش، درد دور کرنا گرم و خشک
شقاقل مصری سٹیرولز، سیپونن، فلیوونائیڈز مقوی باہ، تقویتِ خون گرم و تر
صندل سفید سینٹالول، سینٹالین ٹھنڈک، سکون، صفائی سرد و خشک
آملہ وٹامن سی، ٹینن، گیلک ایسڈ قوتِ مدافعت، صفائی سرد و خشک
ہلیلہ سیاہ چیبیولک ایسڈ، ٹینن، گیلوٹینن ہاضمہ، بلغم، صفائی گرم و خشک
شہد فرکٹوز، گلوکوز، انزائمز، اینٹی آکسیڈینٹ جذب، حفاظت، تقویت گرم و خشک

اجزاء میں موجود غذائی عناصر

جزء وٹامنز معدنیات اینٹی آکسیڈینٹ خاص عنصر
اذراقی مدبر گندھک، آرسینک (مدبر) سلفائیڈ مرکبات
برگ گاؤزبان وٹامن سی، وٹامن اے کیلشیم، پوٹاشیم کیروٹینائیڈز الانٹوئن
اسطوخودوس آئرن، کیلشیم فلیوونائیڈز لیناریل
گوند کیترا کیلشیم، میگنیشیم پولی سیکرائیڈز
ناریل وٹامن بی، وٹامن سی میگنیشیم، پوٹاشیم پولیفینولز لیوریک ایسڈ
مغز چلغوزہ وٹامن ای، وٹامن کے زنک، میگنیشیم، آئرن وٹامن ای پائنولینک ایسڈ
الائچی سبز وٹامن سی کیلشیم، میگنیشیم فلیوونائیڈز سنیئول
زرنباد وٹامن بی میگنیشیم، پوٹاشیم کرکیومینائیڈز زیڈوارون
شقاقل مصری وٹامن بی کمپلیکس زنک، آئرن سیپونن فائٹو سٹیرولز
صندل سفید کیلشیم سینٹالول
آملہ وٹامن سی (بھرپور) آئرن، کیلشیم ایلاجک ایسڈ گیلک ایسڈ
ہلیلہ سیاہ وٹامن سی آئرن، پوٹاشیم ٹینن چیبیولک ایسڈ
شہد وٹامن بی کمپلیکس کیلشیم، پوٹاشیم، زنک فلیوونائیڈز انزائمز

 اجزاء کی مقدار اور تناسب

جزء مقدار مجموعی سفوف میں تناسب بنیادی کام
اذراقی مدبر ۲۰ گرام ۱۷٪ مرکزی اعصابی تقویت
برگ گاؤزبان ۱۵ گرام ۱۳٪ قلب اور دماغ کا سکون
اسطوخودوس ۱۰ گرام ۸٪ دماغی تقویت اور بلغم کشی
گوند کیترا ۱۰ گرام ۸٪ تری اور حفاظت
ناریل ۱۰ گرام ۸٪ توانائی اور غذائیت
مغز چلغوزہ ۱۰ گرام ۸٪ دماغی اور جنسی تقویت
الائچی سبز ۱۰ گرام ۸٪ معدے کی تقویت
زرنباد ۱۰ گرام ۸٪ بلغم کشی اور درد
شقاقل مصری ۱۰ گرام ۸٪ قوتِ باہ اور خون
صندل سفید ۱۰ گرام ۸٪ ٹھنڈک اور سکون
آملہ ۱۰ گرام ۸٪ مدافعت اور صفائی
ہلیلہ سیاہ ۱۰ گرام ۸٪ ہاضمہ اور صفائی
مجموعی سفوف ۱۱۵ گرام ۱۰۰٪ مکمل مرکب
شہد ۳۴۵ گرام سفوف سے تین گنا قوام اور جذب

معجون اذراقی بنانے کا مکمل طریقہ

معجون اذراقی کی تیاری کے لیے چند آسان مراحل پر عمل کرنا ضروری ہے۔ ذیل میں مرحلہ وار مکمل طریقہ دیا گیا ہے۔

مرحلہ ۱ — اجزاء کا انتخاب اور صفائی

سب سے پہلے تمام اجزاء خالص اور معیاری پنساری یا طبی دکان سے خریدیں۔ ملاوٹ زدہ اجزاء سے دوا کا فائدہ کم ہو جاتا ہے۔ تمام اجزاء کو صاف کریں اور مٹی یا کنکر الگ کریں۔

  • اذراقی مدبر خریدتے وقت یقین کریں کہ وہ “مدبر” یعنی صحیح طریقے سے تیار شدہ ہو
  • گوند کیترا خریدتے وقت خالص اور سفید رنگ کی گوند لیں
  • شہد خالص اور قدرتی استعمال کریں

مرحلہ ۲ — خشک کرنا

تمام اجزاء کو صاف سوتی کپڑے پر پھیلا کر سایے میں خشک کریں۔ نمی والے اجزاء معجون کو خراب کر سکتے ہیں۔ مکمل خشک ہونے تک انتظار کریں۔

ناریل اور مغز چلغوزہ کو کم گرمی میں ہلکا سا بھون لیں تاکہ نمی مکمل ختم ہو جائے۔ گوند کیترا کو پانی میں بھگو کر پھولنے کے بعد دھوپ میں خشک کریں۔

مرحلہ ۳ — باریک پیسنا

تمام خشک اجزاء کو پتھر کی چکی یا الیکٹرک گرائنڈر میں باریک پیس لیں۔ سفوف جتنا باریک ہو گا معجون اتنی بہتر بنے گی اور جسم میں تیزی سے جذب ہو گی۔

پیسنے کے بعد تمام سفوف کو باریک کپڑے یا چھلنی سے چھان لیں۔ موٹے ذرات دوبارہ پیسیں۔ مکمل یکساں اور باریک سفوف تیار کریں۔

مرحلہ ۴ — شہد کا قوام تیار کرنا

خالص شہد کو ہلکی آنچ پر گرم کریں۔ شہد کو اس قدر گرم کریں کہ وہ پتلا ہو جائے۔ شہد میں ابال نہ آنے دیں کیونکہ زیادہ گرمی سے شہد کی طبی خصوصیات متاثر ہوتی ہیں۔

شہد کی مقدار تمام سفوف سے تین گنا ہونی چاہیے۔ مثلاً اگر سفوف ۱۱۵ گرام ہے تو شہد ۳۴۵ گرام استعمال کریں۔

مرحلہ ۵ — معجون تیار کرنا

گرم شہد میں آہستہ آہستہ سفوف ملاتے جائیں۔ لکڑی کے چمچے سے مسلسل ہلاتے رہیں تاکہ سفوف یکساں طور پر مل جائے۔ اس وقت تک ہلائیں جب تک مکمل یکساں اور گاڑھا مرکب نہ بن جائے۔

معجون کی صحیح کیفیت یہ ہے کہ وہ نہ بہت سخت ہو اور نہ بہت نرم۔ چمچے سے اٹھانے پر آہستہ سے گرنی چاہیے۔

مرحلہ ۶ — محفوظ کرنا

تیار معجون کو شیشے کے صاف اور خشک مرتبان میں بند کریں۔ ٹھنڈی اور خشک جگہ پر رکھیں۔ نمی اور دھوپ سے بچائیں۔ یہ معجون ایک سال تک قابلِ استعمال رہتی ہے۔


معجون اذراقی کے استعمال کا طریقہ اور خوراک

خوراک کی مقدار

معجون اذراقی کی خوراک مرض کی نوعیت اور شدت پر منحصر ہے۔

صورتِ حال خوراک وقت ہمراہ
ابتدائی یا ہلکا مرض چائے والے چمچ کا تیسرا حصہ صبح و شام نیم گرم دودھ
درمیانی شدت کا مرض آدھا چائے والا چمچ صبح و شام نیم گرم دودھ
شدید مرض یا بڑھاپے کی کمزوری ایک چائے والا چمچ صبح و شام نیم گرم دودھ

استعمال کا درست طریقہ

  1. وقت: صبح ناشتے کے بعد اور شام کو کھانے کے بعد استعمال کریں۔
  2. دودھ: ہمیشہ نیم گرم دودھ کے ساتھ لیں۔ ٹھنڈا دودھ نہ پئیں۔
  3. مقدار: پہلے کم مقدار سے شروع کریں۔ جسم کا ردِعمل دیکھ کر آہستہ آہستہ مقدار بڑھائیں۔
  4. دورانیہ: کم از کم ۴۰ روز باقاعدہ استعمال کریں۔ مزید فائدے کے لیے حکیم سے مشورہ کریں۔
  5. پرہیز: استعمال کے دوران ٹھنڈی اشیاء، کھٹی چیزیں اور بادی غذاؤں سے پرہیز کریں۔

احتیاطی تدابیر اور ضروری ہدایات

معجون اذراقی ایک مؤثر دوا ہے لیکن کچھ احتیاطیں ضروری ہیں۔

کون استعمال نہ کرے؟

  • حاملہ خواتین: بغیر طبی مشورے کے استعمال نہ کریں
  • بارہ سال سے کم عمر بچے: استعمال نہ کریں
  • گرم مزاج والے افراد: کم مقدار سے شروع کریں اور ماہر حکیم سے مشورہ کریں
  • شوگر کے مریض: شہد کی مقدار کو مدِنظر رکھتے ہوئے احتیاط کریں

عام احتیاطیں

  • خالص اجزاء: ہمیشہ خالص اور معیاری اجزاء استعمال کریں
  • مقدار: ہرگز زیادہ مقدار استعمال نہ کریں
  • ماہر سے مشورہ: شدید امراض میں خود علاجی کی بجائے ماہر حکیم سے ملیں
  • اذراقی مدبر: یہ جزء صرف مدبر شدہ (تیار کردہ) استعمال کریں، خام ہرگز نہ لیں

پرہیز اور غذائی ہدایات

کیا کھائیں؟

  • غذائیت بخش گھر کا پکا کھانا
  • نیم گرم دودھ اور خشک میوہ جات
  • تازہ سبزیاں اور پھل
  • مچھلی اور ہلکا گوشت
  • بادام، اخروٹ اور کشمش

کیا نہ کھائیں؟

  • ٹھنڈے مشروبات اور کولڈ ڈرنکس
  • کھٹی اور ترش اشیاء
  • بہت زیادہ مرچ مصالحہ
  • بادی غذائیں (دال ماش، اروی، بینگن)
  • رات کو دیر سے کھانا

اختتامیہ

معجون اذراقی طبی فارماکوپیا کا ایک بے مثال اور آزمودہ مرکب ہے۔ فالج، رعشہ، اعصابی کمزوری، بلغمی امراض اور قوتِ باہ کے لیے یہ نسخہ صدیوں سے نتائج دیتا آ رہا ہے۔ چالیس سال سے اوپر کے افراد کے لیے یہ دوا ایک مکمل طاقت بخش مرکب ہے۔ معجون اذراقی کو خالص اجزاء سے گھر پر تیار کریں، باقاعدگی سے استعمال کریں اور قدرتی صحت کی راہ اپنائیں۔ یہ سرمایہ کاری آپ کی صحت اور توانائی میں نمایاں اضافہ کرے گی۔


اس آرٹیکل کو لازمی شیئر کریں تاکہ مخلوقِ خدا کا بھلا ہو۔ مزید طبی مشوروں کے لیے پاکستان کے نامور طبیب حکیم عمران کمبوہ صاحب سے رابطہ کریں۔ رابطے کے لیے دیے گئے نمبر پر واٹس ایپ کریں:

+923046539899

Scroll to Top